ریونیو انتظامیہ پاکستانی ٹیکس نظام میں خرابی کی ذمہ دار ہے, عالمی بینک

ایف بی آر کو کمپلائنس و ریونیو بڑھانے کیلئے سسٹم کو آن لائن، سٹرکچر، آپریشنز اور پراسیس کو جدید ٹیکس ایڈمنسٹریشن سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، رپورٹاسلام آباد(آن لائن)عالمی بینک نے کہا ہے کہ پیچیدہ ٹیکس نظام، تنگ ٹیکس بیس اور ٹیکسوں میں بڑے پیمانے پر دی جانیوالی رعایت و چھوٹ پاکستان میں کم ریونیو موبلائزیشن کی بڑی وجوہات ہیں۔ایف بی آر کو ٹیکس دہندگان کے کمپلائنس کی شرح اور ٹیکس وصولیاں بڑھانے کے لئے اپنے سسٹم کو آن لائن کرنے کے ساتھ ساتھ سٹرکچر، آپریشنز اور پراسیس کو جدید ٹیکس ایڈمنسٹریشن سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ ایف بی آر ذرائع نے بتایا کہ یہ بات عالمی بینک کے جائزہ مشن نے اپنی رپورٹ میں کہی ہے۔ ذرائع کے مطابق پبلک سیکٹر سپیشلسٹ راول فلیکس جنکوئرہ کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کرنیوالے عالمی بینک کے جائزہ مشن نے ایف بی آر حکام کے ساتھ مل کر تفصیلی جائزہ لینے کے بعد رپورٹ مرتب کی ہے جس میں بتایا ہے کہ پاکستان میں کم ریونیو موبلائزیشن کی وجوہات میں ٹیکس دہندگان کی جانب سے کمپلائنس کا کم ہونا، ٹیکس نیٹ بیس کا کم ہونا، ٹیکسوں میں دی جانیوالی رعایت و چھوٹ اور پیچیدہ ٹیکس سسٹم شامل ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں ٹیکس ریونیو اکھٹا کرنے کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں۔ اسکے علاوہ کمزور اور غیر فعال ٹیکس انتظامیہ کی وجہ سے ملک کا ٹیکس سسٹم متاثر ہورہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایف بی آر کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور بزنس پراسیس میں پائی جانیوالی خامیوں کودور کرنا ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email